Monday, October 19, 2009

میاں محمد شریف نواز شریف ByMuhammadAmirSultanChishti923016778069


میاں محمد شریف
1
میاں محمد شریفنام
1920تاریخ پیداءش
وجھ شھرت
ذاتی محنت و شرافت کی لازوال مثال جس نے اپنی جدوجہد سے صنعت و سیاست میں درجہ کمال حاصل کیا۔
میاں صاحب اپنے کردار، رفاعی اور فلاحی کاموں کی بدولت ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ دعا ہے اللہ رب العزت انکے جلائے چراغوں کو روشن رکھے اور وہ میاں صاحب کے نقش قدم پر گامزن رہیں۔

میاں محمد شریف ایک عظیم شخصیت جو کردار وگفتار میں بے مثال تھے۔ برصغیر کی روایتی مشترک خاندانی روایات کی ایک لازوال مثال تھے۔ خود چھ بھائیوں نے باہمی محبت کے جو نقوش مرتب کیے آج اس مشترک تہذیب کے مشکل ترین دور میں انکی اولاد اسکی بہترین روایت قائم رکھے ہوئے ہے۔ یہ انکے اخلاص کا ایک بہترین ثمر ہے۔

انکی موت نے انکے نام سے موسوم خاندان کو ایک مینارہ نور سے محروم کر دیا۔ انکی اولاد ان سے بہتر تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود انکی طرح مشکل ترین اور ناموافق حالات میں دوراندیشانہ اور مدبرانہ سوچ میں ان سے کم تر ہے۔

میاں صاحب مضبوط اعصاب کے مالک تھے اورمشکل ترین حالات سے بخوبی عہدہ براء ہونے کی صلاحیت ان میں بدرجہ اتم موجود تھی۔ وہ خاندان کو یکجا رکھنے کے فن سے آشنا تھے۔ ان ہی کی تربیت کا نتیجہ ہے کہ میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف بہت سے معاملات میں یکجا رائے نہ رکھنے کے باوجود یکجا رہے اور میاں شہباز شریف کو ''مسحورکن ''سیاسی ترغیبات اپنے بھائی سے دور نہ کر سکیں۔

میاں محمد شریف کے دوراندیشانہ فیصلوں میں ایک فیصلہ پاکستان سے جلاوطنی تھا اس تلخ فیصلے کے مثبت ثمرات مستقبل میں آشکار ہونگے۔ انہوں نے مشکل ترین حالات میں جب جنرل پرویز مشرف جو ایک بپھرے ہوئے سانڈ کی طرح نواز شریف کو دشمن نمبر ایک قرار دے رہا تھا۔ بیٹوں کے مختلف الرائے ہونے کے باوجود میاں صاحب نے جلا وطنی کا فیصلہ کیا اور اپنے خاندان کو بحفاظت برادر ملک سعودیہ منتقل کیا ۔

میاں صاحب کے ہی دانشمندانہ اور دور اندیشانہ فیصلہ نے صدر رفیق تارڑ کو نواز شریف کی برطرفی کے باوجود صدارت پر فائز رکھا۔ میاں صاحب کا ایک جملہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بہت مقبول ہے اور بلاشبہ پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ ساز ہے۔ میاں صاحب کے بقول اب بھی وقت ہے کہ اس بات کا تعین کر لیا جائے کہ یہ ملک کس کے لیے بنا اور اس پر حکمرانی کا حق کس کو ہے۔

میاں صاحب نے یہ سلطنت ایک دن میں قائم نہ کی تھی اس کے پیچھے انکی انتھک محنت تھی جو انہوں نے لوہے کے ایک عام کاروباری کی حیثیت سے شروع کی اور 1970ء تک ایک بہت بڑے ادارے اتفاق فونڈریز کا مالک بنا دیا۔ یہ ادارہ مشرقی اور مغربی پاکستان دونوں حصوں میںقائم تھا ۔ سقوط ڈھاکہ سے مشرقی پاکستان میں قائم اتفاق فونڈری اور ذوالفقار علی بھٹو کے نیشنلائزیشن کے عمل سے مغربی پاکستان میں قائم یہ ادارہ میاں صاحب سے چھن گیا۔ ''قائد عوام'' کے دور میں کم و بیش دس ہزار10000خاندان روزگار سے محروم ہوگئے۔

اس سب کے باوجود میاں صاحب نے ہمت نہ ہاری اور صرف تین سال کے عرصہ میںچھ نئے کارخانے قائم کرکے اپنے آہنی عزم وحوصلہ اور استقامت کی بدولت صنعتی میدان میں چھا گئے۔

1979ء میں خستہ حالت میں اتفاق فونڈری واپس کی گئی تومیاں صاحب نے اس ادارے کی عظمت رفتہ اور ساکھ چند سالوں میں دوبارہ بحال کی اور اسے ایک عظیم ادارہ بنا دیا۔

اس کے بعد بھی اس عظیم شخص کے اداروں سے چھیڑ خانی جاری رہی ایک مشہور واقع جوناتھن نامی جہاز کو سال بھر بندرگاہ پر روکے رکھنا تھا۔ اور اس کے بعد 12اکتوبر 1999ء کو تو انتہا ہوگئی اور یہ سب چھو ڑچھاڑ میاں صاحب اپنے خاندان سمیت سعودیہ جلاوطن کر دیے گئے۔

یہ استقامت کا ہمالہ وہاں بھی اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھا گیا اور ایک بڑی سٹیل مل قائم کی ۔ اور اس مل میں سستی لیبر کی بجائے پاکستان سے لیبر منگوا کر ہزاروں پاکستانی خاندانوں کو روزگار مہیا کیا۔

یہ درویش منش انسان اپنی ذات میں ایک بہت بڑا ادارہ تھا۔ انفرادی سطح پر ضرورتمندوں کی حاجات پوری کرنے کے علاوہ ایسے ادارے قائم کیے جہاں سے اجتماعی طورپر افراد کی دادرسی کی جا سکے۔ اتفاق اسلامی اکیڈمی، اتفاق ہسپتال، اتفاق ویلفیئر، اتفاق مسجد، شریف میڈیکل سٹی اینڈایجوکییشنل کمپلیکس یہ وہ نیٹ ورکس ہیں جن کے تحت رفاہ عامہ کا کام منظم طریقے سے جاری کیا۔

ایک فرد نے ایک قوم جتنا کا تنہا کیا۔ اور سب سے بڑی بات ہمیشہ بڑے میاں صاحب نے خود کو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے دور رکھا۔ آج کے دور ایسے افراد بہت خال نظر آتے ہیں۔

پاکستان کا یہ عظیم صنعتکار ایک عظیم سیاستدان انتہائی سادہ زندگی گزارتا تھا۔ سفید شلوار قمیض اورواسکٹ یا شیروانی اس کا مرغوب لباس تھا۔ اس لباس میں وہ ملک کی مقتدر شخصیات سے ملتا اسے کوئی کمپلیکس نہ تھا۔

میاں صاحب نے ایک360ایکڑ پر مشتمل ایک زرعی فارم کیا اور اس کا نام اپنے آبائی گائوں کے نام پر ''جاتی عمرہ'' رکھا۔

یاد رہے کہ میاںصاحب کا کنبہ تقسیم ہند سے بہت پہلے امرتسر کے قریب ایک گائوں جاتی عمرہ سے نقل مکانی کرکے پاکستان آیا تھا۔

84برس کی عمر میں 29اکتوبر2004 رات دس بجے دل کا دورہ پڑنے سے جلا وطنی کے عالم میں دار فانی سے کوچ کر گئے۔

یو ں جاتی عمر ہ امرتسر ہندوستان سے زندگی کا سفر شروع کرنے والا یہ ہستی جاتی عمرہ رائے ونڈ میں محو استراحت ہے۔

میاں صاحب اپنے کردار، رفاعی اور فلاحی کاموں کی بدولت ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ دعا ہے اللہ رب العزت انکے جلائے چراغوں کو روشن رکھے اور وہ میاں صاحب کے نقش قدم پر گامزن رہیں۔

نواز شریف
نواز شریفنام
25/ 12 / 1949تاریخ پیداءش
وجھ شھرت
میاں محمد نواز شریف پاکستان کے سابق وزیر اعظم ہیں
عام انتخابات میں میاں نواز شریف قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی سیٹوں پہ بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے۔

میاں محمد نواز شریف پاکستان کے سابق وزیر اعظم ہیں۔ آپ کو یہ منصب دو دفعہ نصیب ہوا وہ میاں محمد شریف ''مرحوم'' کے سب سے بڑے صاحبزادے ہیں، جو کہ اتفاق گروپ آف انڈسٹریز کے شریک مالکان میں سے تھے۔

تعلیم
میاں محمد نواز شریف25 دسمبر، 1949کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ انھوںنے ابتدائی تعلیم سینٹ اینتھنیز ہائی سکول، لاہور سے حاصل کی۔ گورنمنٹ کالج لاہور'' اب گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور '' سے گریجویشن کرنے کے بعد جامعہ پنجاب سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔

سیاسی تاریخ
وہ کچھ عرصہ پنجاب کی صوبائی کونسل کا حصہ رہنے کے بعد 1981 میں پنجاب کی صوبائی کابینہ میں بطور وزیرِخزانہ شامل ہو گئے۔ وہ صوبے کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں دیہی ترقی کے حصے کو 70% تک لانے میں کامیاب ہوئے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ کھیلوں کے وزیر بھی رہے اور صوبے میں کھیلوں کی سرگرمیوں کی نئے سرے سے تنظیم کی۔

1985 کے عام انتخابات میں میاں نواز شریف قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی سیٹوں پہ بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے۔ 9 اپریل 1985 کو انھوں نے پنجاب کے وزیرِاعلی کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔31 مئی 1988کو جنرل ضیاالحق کی طرف سے اسمبلیوں کی برخواستگی کے بعد میاں نواز شریف کو پنجاب کا نگران وزیرِاعلی نامزد کیا گیا۔ جناب نواز شریف 1988 کے انتخابات میں دوبارہ وزیرِاعلی منتخب ہوئے۔ ان کی اس مدت میں مری اور کہوٹہ میں زبردست ترقی ہوئی۔

بطور وزیر اعظم
6 نومبر 1990 کو نواز شریف نے اس وقت بطور منتخب وزیرِاعظم حلف اٹھایا جب ان کی انتخابی جماعت، اسلامی جمہوری اتحاد نے اکتوبر 1990 کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ تاھم وہ اپنی پانچ سال کی مدت پوری نہ کر سکے اور ان کو اس وقت کے صدر نے ان کو ان کے عہدے سے فارغ کر دیا۔ اگرچہ ملک کی عدالت اعظمی نے ایک آئینی مقدمے کے بعد انھیں دوبارہ ان کے عہدے پہ بحال تو کر دیا، لیکن ان کو جولائی 1993 میں صدر کے ساتھ اپنے عہدے سے استعفی دینا پڑا۔

ان کے زمان وزارت اعظمی کے دوران ، نجی شعبہ کے تعاون سے ملکی صنعت کو مضبوط بنانے کی کوششیں کی گئیں۔غازی بروتھا اور گوادر بندرگاہ جیسے منصوبے شروع کیے گئے۔ سندھ کے بے زمین ہاریوں میں زمینیں تقسیم کی گئی۔ وسطی ایشیائی مسلم ممالک سے تعلقات مستحکم کیے گئے۔ اقتصادی تعاون تنظیم کو ترقی دی گئی۔ افغانستان کے بحران کو حل کرانے میں مدد دی گئی اور مختلف افغان دھڑوں نے "معاہد اسلام آباد" پہ دستخط کیے۔

ان کے دورِحکومت کی اہم خوبی، پریسلر ترمیم کے تحت نافذ کی گئیں امریکی پابندیوں کے باوجود معاشی ترقی کا حصول تھی۔ اکتوبر 1999 میں نواز شریف نے اس وقت کے فوج کے سربراہ پرویز مشرف کو ہٹا کر نئے فوجی سربراہ کی تعیناتی کی کوشش کی۔ فوج کا کردار قومی سیاست میں کم کرنے کی یہ دیانتدانہ کوشش ان کے لیے آفت بن گئی اور ایک فوج بغاوت کے بعد ان کی حکومت کو ختم کر دیا گیا۔

جلاوطنی
فوج کی طرف سے ان کی حکومت ختم ہونے کے بعد ان پر مقدمہ چلا، جو "طیارہ کیس" کے نام سے مشہور ہا۔ اس میں اغوا اور قتل کے الزامات شامل تھے۔ فوج کے ساتھ ایک خفیہ معاہدے کے بعد سعودی عرب چلے گئے۔ آج کل لندن میں مقیم ہیں۔ 2006 میں مثاق جمہوریت پر بے نظیر بھٹو سے مل کر دستخط کیے اور فوج حکومت کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا۔

23 اگست 2007 کو عدالت عظمی نے شریف خاندان کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ان کی وطن واپسی پر حکومتی اعتراض رد کرتے ہوئے پورے خاندان کو وطن واپسی کی اجازت دے دی۔

فوجی تاخت 2007ء
فوجی تاخت کے بعد نواز شریف اپنے خاندان کے ہمراہ سعودی عرب کے پرویز مشرف پر دبائو کے نتیجے میں 25 نومبر 2007 کو لاہور پہنچ گئے۔




























































No comments:

Post a Comment